اہم خبریں
منہاج القرآن انٹرنیشنل کارپی کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل شبِ برأت         شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہیں عالمزیب شہید کا مشن صرف اور صرف ملک اور عوام کی خدمت تھا۔ارشد خان عمرزئی سابق رکن صوبائی اسمبلی         اٹلی کی موسمی امگریشن اور پاکستان اس سے نا اہل ۔ حکومتی خارجہ پالیسی سفارتی تعلقات کی نا اہلی ۔الیاس چوہان         چوہدری گلریز بوگاکی جانب سے حویلی ریسٹورنٹ بارسلونا میں ایک پرتکلف عشایہ کا اہتمام۔         مرحوم گلزار احمد کی نماز جنازہ کل بروز بدھ کو 13:30 بجے محمدیہ مسجد ناپولی میں ادا کی جائے گی         چیف اکرام الدین کا صوبائی وزیر زراعت محب اللہ خان کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد         خاتون کو تقریر سے روکنا کونسی انسانیت ہیں صوبائی حکومت انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز کی انتظامیہ کیخلاف قانونی کاروائی کریں.چیف اکرام الدین         پاکستانی فرم ڈو مارٹن فرانس میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی طرف گامزن         مسلم لیگ ن سپین کے سنئیر رہنما چوہدری دانیال صغیر گجر کے صاجزادے محمد۔اعتصام مجید کی پہلی سالگرہ بارسلونا میں منائی گئی         مغل اعظم ریسٹورنٹ اور SALA BANCHETTO کا شاندار افتتاح         سفارت خانہ پاکستان فرانس نے یوم پاکستان کی یاد میں ایک سفارتی استقبالیہ دیا         کسال پاکستانی اور امرہ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یوم پاکستان کے موقع پر ایک شام         فیضان شرافت آزاد گروپ ویاناکی جانب سے یوم پاکستان کی تقریب میں ملی نغمہ پیش کرتے ہوئے حاضرین نے فیضان علی کی تالیاں بجا کر حوصلہ افزائی کی۔(اکرم باجوہ ویانا)         آزاد گروپ ویاناکی جانب سے یوم پاکستان کی تقریب میں خواتین ومرد حضرات کی بھرپور شرکت تصویری جھلکیاں (اکرم باجوہ ویانا)         پاکستان تحریک انصاف دبئی کے زیر اہتمام یومِ پاکستان کے سلسلہ میں منعقدہ پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا        

طرابلس پر قبضے کیلیے باغیوں اور سیکیورٹی فورسز میں تصادم، ہلاکتیں 121ہوگئیں، 600افراد زخمی

طرابلس(نمائندہ خصوصی) لیبیا میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 121ہوگئی جب کہ 600 افراد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبیا میں باغی کمانڈر حفتر کے حامی مسلح جنگجو نے دارالحکومت طرابلس میں قابض ہونے کی کوشش کی جس پر انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا رہا، ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں 121افراد لقمہ اجل بن گئے اور 600سے زائد زخمی ہیں۔دارالحکومت کی سڑکوں اور گلیوں پر مسلح جنگجوں کا راج ہے جب کہ حکومتی فورسز نے اہم سرکاری عمارات کا گھیراو کر رکھا ہے، دوطرفہ فائرنگ سے دارالحکومت گونج رہا ہے اور معمولات زندگی معطل ہوکر رہ گئے ہیں، ہلاک ہونے والے اور زخمیوں کی اسپتال منتقلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔خانہ جنگی کے باعث دارالحکومت میں ادویات اور طبی سہولیات کا فقدان پیدا ہوگیا ہے، مسلح افراد ایمبولینس کو بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ایسے میں عالمی ادارہ برائے صحت نے طبی ٹیموں کو ادویہ اور دیگر ضروری امدادی اشیا کے ہمراہ لیبیا روانہ کردیا ہے۔دوسری جانب مصر کے صدر السیسی نے قاہرہ میں باغی کمانڈر خلیفہ حفتر سے ملاقات کی اور لیبیا کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تاہم میڈیا کو اس اہم ملاقات کے ایجنڈے سے بے خبر رکھا گیا اور نہ ہی کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ لیبیا میں 2011 میں 41 سال تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے دور حکومت کا خاتمہ کردیا گیا جس کے بعد اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم کی گئی تھی تاہم چند برس میں معمر قذافی کے 2 ہزار سے زائد حامی قیدیوں کے فرار کے بعد حالت بد سے بدتر ہوتے گئے ہیں۔

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*

Michael Bennett Womens Jersey